2 نومبر 2026 - 16:34
بل کلنٹن: ایران پر حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں کیا گیا

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ایران پر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کے فوجی حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کے لیے نہ مناسب منصوبہ بندی کی گئی اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح لائحہ عمل موجود تھا۔ انہوں نے امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو بھی ایران پر حملے کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بل کلنٹن نے ریاست مسیسیپی میں ڈیموکریٹک امیدوار اسکاٹ کولم کی سینیٹ انتخابات میں حمایت کے لیے منعقدہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ امریکہ میں پٹرول کی بلند قیمتوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو انہیں نظر آتا ہے کہ یہ اضافہ براہِ راست ایران پر ایسے حملے کا نتیجہ ہے جس کے بارے میں اچھی طرح سوچ بچار نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے اور بالآخر اسے ایک حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھتا دیکھنے میں ان سے زیادہ دلچسپی کسی کو نہیں ہوسکتی۔

امریکہ کے سابق صدر نے اپنی حکومت کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

’’جب میں صدر تھا تو ہم نے ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے، لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمیں جنگ میں کود پڑنا چاہیے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو مرتے دیکھنا چاہیے، وہ بھی ایسے حالات میں جب ہمارا اس ملک پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘

کلنٹن نے آخر میں ٹرمپ حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی کہ اس نے جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح لائحہ عمل بنائے بغیر کارروائی شروع کردی۔ انہوں نے کہا:

’’آپ لوگوں کو مارنا شروع نہیں کرسکتے، جب تک آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اسے روکنا کیسے ہے۔‘‘

واضح رہے کہ بل کلنٹن کے دورِ صدارت (1993ء سے 2001ء) میں ایران اور عراق کے حوالے سے ’’دوہری پابندیوں‘‘ کی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔

ان کی حکومت نے 1995ء اور 1996ء میں صدارتی احکامات جاری کرکے اور ایران و لیبیا پابندیوں کا قانون منظور کرکے ایران پر وسیع اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔

واشنگٹن نے دوسرے ممالک کو ایران کے ساتھ جوہری اور میزائل شعبوں میں تعاون سے روکنے کی بھی کوشش کی تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جاسکے۔

تاہم، کلنٹن حکومت کا فوجی ریکارڈ بھی مختلف فوجی کارروائیوں سے خالی نہیں تھا۔ اگست 1998ء میں ان کے حکم پر امریکی فوج نے افغانستان اور سوڈان میں بعض مقامات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسی سال دسمبر میں امریکہ اور برطانیہ نے ’’آپریشن ڈیزرٹ فاکس‘‘ کے نام سے کارروائی کرتے ہوئے 70 گھنٹوں تک عراق کے فوجی اور اہم تزویراتی اہداف پر بمباری کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha